کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ عاشوراء کا دن یا اس کا کچھ حصہ روزہ رکھا جائے جو پورے دن کے روزہ سے عاجز ہو
حدیث نمبر: 3620
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكُوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ : " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلِيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلِيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ " ، قَالَتْ : فَكُنَّا نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبِيَانَنَا الصِّغَارَ وَنَذْهَبُ بِهِمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ .
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن صبح کے وقت مدینہ منورہ کے اردگرد موجود انصار کی آبادیوں کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو وہ اپنا روز مکمل کرے اور جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو، تو وہ بقیہ دن کا روزہ رکھے (یعنی مزید کچھ کھائے پیے نہیں) سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھوایا کرتے تھے ہم انہیں ساتھ لے کر مسجد آ جاتے تھے اور ان کے لیے آٹے کی گڑیا بنا لیتے تھے جب ان میں سے کوئی ایک بچہ کھانے کے لیے روتا تھا، تو ہم وہ اسے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ افطاری کا وقت ہو جاتا تھا (تو ہم روزہ کھولتے تھے)