کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر ہفتہ کے روزہ سے منع کیا گیا، مع اس بیان کے کہ اگر اسے کسی دوسرے دن کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کا روزہ جائز ہے
حدیث نمبر: 3616
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرُوَزِيُّ زَاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُسَائِلُهَا عَنْ أَيِّ الأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لِصِيَامِهَا ؟ فَقَالَتْ : يَوْمَ السَّبْتِ وَالأَحَدِ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا ، فَقَالُوا : إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا ، وَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ يَوْمُ السَّبْتِ وَالأَحَدِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " إِنَّهُمَا عِيدَانِ لِلْمُشْرِكِينَ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ " .
کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کون سے دن میں روزہ رکھا کرتے تھے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتے کے دن اور اتوار کے دن میں۔ میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ سب لوگ اٹھ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں خود حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بتایا کہ ہم نے اس شخص کو آپ کی خدمت میں اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا، اس نے، تو یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر ہفتے اور اتوار والے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: یہ دونوں مشرکین کی عید کے دن ہیں (وہ اس دن کھاتے پیتے ہیں)، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔