کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: یومِ عرفہ کے روزے کا بیان - اس بات کا ذکر جو عرفات میں کھڑے شخص کے لیے مستحب ہے کہ وہ افطار کرے تاکہ اپنی دعا اور التجا کے لیے قوی ہو
حدیث نمبر: 3606
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوَا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَشَرِبَ " .
سیده ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے ان کی موجودگی میں عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں اختلاف کیا کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا ہوا، تو سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ بھیجا۔ آپ اس وقت اپنے اونٹ پر وقوف کیے ہوئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3606
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2109): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3597»