کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: عید کے دن روزہ رکھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "عید کے دن روزہ نہیں" سے مراد عید الفطر اور عید الاضحی ہیں
حدیث نمبر: 3600
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا ، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالأَخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ " ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلِيَنْتَظِرْهَا ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنَّ يَرْجِعَ فَلِيَرْجِعْ ، فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعُثْمَانُ مَحْضُورٌ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ .
ابوعبید جو ابن اظہر کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں عید کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ انہوں نے نماز مکمل کی پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ ایک اس دن جب تم اپنے روزوں کے بعد عیدالفطر کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس دن میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ ابوعبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں بھی عید کی نماز میں شرکت کی، وہ شریف لائے۔ انہوں نے نماز ادا کی جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج کے دن تم لوگوں کی دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں (یعنی آج عید کے دن جمعہ بھی ہے)، تو نواحی علاقوں کے رہنے والے لوگوں میں سے جو شخص جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ اس کا انتظار کرے اور جو شخص واپس جانا چاہے وہ واپس چلا جائے۔ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔ ابوعبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز عید میں شرکت کی اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گھر میں محصور کر دیا گیا تھا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو لوگوں کو خطبہ دیا۔