کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: روزہ شک کے دن کے بیان میں فصل - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر شعبان کے آخری نصف میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 3590
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الِيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : ادْنُ فَكُلْ ، قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ ، قُلْتُ : فَحَدِّثْنِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً ، صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَبَرَةُ سَحَابٍ ، أَوْ قَتَرَةٌ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ " .
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان کا دن ہے وہ اس دن کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: آگے آؤ اور کھانا کھاؤ میں نے کہا: میں نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور آگے آؤ گے۔ میں نے کہا: پھر آپ (اس بارے میں) مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تو انہوں نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” (رمضان کے) مہینے سے پہلے اس کا استقبال نہ کرو (یعنی اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو) اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اگر تمہارے درمیان اور اس (چاند) کے درمیان بادل کی رکاوٹ آ جائے، یا (چاند کو دیکھنے میں) دشواری ہو تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3590
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2016). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3582»