کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: روزہ شک کے دن کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "کیا میں نے اس مہینے کا آغاز روزہ سے کیا؟" سے مراد شعبان کا آغاز ہے
حدیث نمبر: 3588
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ أوَ لِرَجُلٍ : " أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ " ، لَفْظَةُ اسْتِخْبَارٍ عَنْ فَعَلٍ ، مُرَادُهَا الإِعْلامَ بِنَفِيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ الْمُسْتَخْبَرِ عَنْهُ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِ لَوْ فَعَلَهُ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَتَسْتُرِينَ الْجِدَارَ " ، أَرَادَ بِهِ الإِنْكَارِ عَلَيْهَا بِلَفْظِ الاسْتِخْبَارِ ، وَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنْ شَوَّالٍ ، أَرَادَ بِهِ أَنَّهَا السِّرَارُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الشَّهْرَ إِذَا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَسْتَتِرُ الْقَمَرُ يَوْمًا وَاحِدًا ، وَإِذَا كَانَ الشَّهْرُ ثَلاثِينَ يَسْتَتِرُ الْقَمَرُ يَوْمَيْنِ ، وَالُوَقْتُ الَّذِي خَاطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخِطَابِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَدَدُ شَعْبَانَ كَانَ ثَلاثِينَ مِنْ أَجْلِهِ أَمَرَ بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنْ شَوَّالٍ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور شخص سے یہ فرمایا: کیا تم نے شعبان کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم روزہ نہ رکھو، تو دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کیا تم نے اس مہینے کے اختتامی دنوں کے روزے رکھیں ہیں۔ اس میں لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی کی جائے جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے یعنی اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہو تو اس کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہو گا جو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ” کیا تم دیوار کو رکاوٹ بنا رہی ہو “ تو یہاں دریافت کرنے کے الفاظ کے ذریعے ان کا انکار کرنا مراد تھا۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو شوال کے دو روزے رکھنے کا حکم دیا تو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ یہ سرا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے: مہینہ جب 29 دن کا ہو تو چاند دو دن تک پوشیدہ رہتا ہے۔ وہ وقت جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس موقع پر شعبان 30 دن کا ہو۔ اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے دو دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3588
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3580»