کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ممنوع روزے کے بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ وصال کا روزہ استعمال کیا جائے
حدیث نمبر: 3579
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا تُوَاصِلُوا " ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ وَضْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِهِ هِيَ كُلُّهَا أَبَاطِيلُ ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهَا الْحُجَزُ لا الْحَجَرُ ، وَالْحُجَزُ طَرَفُ الإِزَارِ ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا كَانَ يُطْعِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَسْقِيهِ إِذَا وَاصَلَ ، فَكَيْفَ يَتْرُكُهُ جَائِعًا مَعَ عَدَمِ الُوِصَالِ حَتَّى يَحْتَاجَ إِلَى شَدِّ حَجَرٍ عَلَى بَطْنِهِ ، وَمَا يُغْنِي الْحَجَرُ عَنِ الْجُوعِ ؟ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم لوگ صوم وصال نہ رکھو۔ لوگوں نے عرض کی: آپ بھی، تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام روایات جن میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا تھا یہ تمام روایات جھوٹی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تہبند باندھا تھا۔ اس سے مراد پتھر باندھنا نہیں اور لفظ حجز سے مراد تہبند کا سرا ہے اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو کھلا بھی دیتا تھا اور پلا بھی دیتا تھا۔ اس وقت جب آپ صوم وصال رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت کیسے بھوکا چھوڑ سکتا ہے جب آپ نے صوم وصال بھی نہیں رکھا تھا اور آپ کو پیٹ پر پتھر باندھنے کی ضرورت پیش آئی تھی، حالانکہ پتھر بھوک کو کیا ختم کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3579
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مكرر (3566). * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ ... عَنِ الْجُوعِ؟ ] قال النَّاشِر: أشار الشيخ - رحمه الله - في هامش الأصل إلى لزوم التعليق على كلام أبي حاتم - رحمه الله - هذا؛ لكنَّهُ - رحمه الله - لم يُسْعِفْهُ الوقت لذلك. وانظر كلام الحافظ ابن حجر في «الفتح» حول هذا. تنبيه!! رقم (3566) = (3574) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3571»