کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ممنوع روزے کے بیان - اس بات کا بیان کہ منع کردہ وصال کا روزہ آدمی کے لیے سحر سے سحر تک جائز ہے
حدیث نمبر: 3577
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيُوَةُ ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ وَذَكَرَ ، عُمَرُ آخَرَ مَعَهُمَا ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الُوِصَالِ " ، فَقِيلَ لَهُ : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي ، إِنِّي أَبِيتُ لِيَ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِيَنِي ، فَأَيُّكُمْ وَاصَلَ فَمِنْ سَحَرٍ إِلَى سَحَرٍ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے صوم وصال رکھنے سے منع کیا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ بھی، تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میری مانند نہیں ہو میں رات بسر کرتا ہوں، تو مجھے کھلانے والا کھلا دیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی نے صوم وصال رکھنا ہو، تو وہ ایک صبح سے اگلی صبح تک رکھ لے۔ (یعنی ایک سحری سے اگلی سحری تک صوم وصال رکھے، یعنی افطاری کے وقت باقاعدہ کچھ کھائے پیئے نہیں)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3577
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2044): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3569»