کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کسی اور کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3570
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْبَهَانِيُّ ، بِالْكَرْخِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمُسْلِمٌ الْبَطِينِ ، وسلمة بن كهيل ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتِ لَوَ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہاری بہن کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اسے ادا کیا جائے)