کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مسافر کے روزے کا بیان - اس بات کا بیان کہ سفر میں افطار کا حکم اجازت کا ہے، نہ کہ وجوب کا
حدیث نمبر: 3567
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبَى الأَسُوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجِدُ لِيَ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبَى مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ .
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے اندر سفر کے دوران روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہوں، تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا (اگر میں روزہ رکھ لوں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت ہے، جو اسے اختیار کر لیتا ہے، تو یہ اچھا ہے اور جو شخص روزہ رکھنے کو پسند کرتا ہے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): عروہ بن زبیر نے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور ابومراوح نے یہ روایت سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، تو ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3567
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 61 / 926). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3559»