کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مسافر کے روزے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ جابر کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3566
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو زَيْدٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ " ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے، تو آپ نے پانی منگوایا۔ آپ نے اپنے دست مبارک کو بلند کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ تشریف لانے تک (آپ نے روزہ نہیں رکھا) یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کے دوران) روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا، تو جو شخص چاہے وہ (سفر کے دوران) روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔