کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مسافر کے روزے کا بیان - اس بات کا بیان کہ بعض حالات میں کچھ مسافر اگر افطار کریں تو وہ کچھ روزہ داروں سے بہتر ہو سکتے ہیں
حدیث نمبر: 3559
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحُوَلُ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، وَنَزَلْنَا مَنْزِلا يَوْمًا حَارًّا شَدِيدَ الْحَرِّ ، فَمِنَّا مِنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ ، وَأَكْثَرُنَا ظِلا صَاحِبُ كِسَاءٍ يَسْتَظِلُّ بِهِ الصَّائِمُونَ ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ يَضْرِبُونَ الأَبْنِيَةَ وَيُصْلِحُونَ الرَّكَائِبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الِيَوْمَ بِالأَجْرِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔ ایک شدید گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے دھوپ سے بچ رہا تھا اور اس دن زیادہ سایہ اس شخص کے پاس تھا جو چادر والا تھا اور اسکے ذریعے روزہ دار لوگوں نے سایہ کیا ہوا تھا اور جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ اٹھے انہوں نے خیمے وغیرہ لگائے اور سواریاں وغیرہ بٹھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج وہ لوگ اجر لے گئے ہیں جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3559
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2080/ 2): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3551»