کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مسافر کے روزے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مسافر روزہ دار پر اگر وہ مسافر افطار کرنے والے کی قوت پائے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر وہ اس سے کمزور ہو تو
حدیث نمبر: 3558
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، فَلا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ، يَرَوْنَ أَنَّ مَنَ وَجَدَ قُوَّةً ، فَصَامَ فَهُوَ حَسَنٌ ، وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأفْطَرَ ، فَهُوَ حَسَنٌ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں ایک جنگ میں شرکت کے لیے گئے ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، تو روزہ دار شخص کو روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے کو روزہ دار شخص پر کوئی اعتراض نہیں تھا وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس شخص میں قوت ہو اور وہ روزہ رکھ لے، تو یہ بہتر ہے اور جو شخص کمزور ہو اور اگر وہ روزہ نہ رکھے، تو یہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3558
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2081). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3550»