کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مسافر کے روزے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا اس لیے ناپسند کیا گیا کہ کہیں آدمی کمزور نہ ہو جائے، نہ کہ اس کا استعمال نیکی کے خلاف ہو
حدیث نمبر: 3553
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةِ تَبُوكَ ، وَكَانَتْ تُدْعَى غَزُوَةُ الْعُسْرَةِ ، فَبَيْنَمَا نَسِيرُ بَعْدَمَا أَضْحَى النَّهَارُ ، فَإِذَا هُوَ بِجَمَاعَةٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ صَامَ ، فَجَهَدَهُ الصَّوْمُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ اس غزوہ کو غربت کی جنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ابھی ہم دن چڑھنے کے بعد چل رہے تھے، ایک جگہ کچھ لوگ ملے جو ایک درخت کے سائے کے نیچے جمع تھے۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو اس کا روزہ اس کے لیے دشواری پیدا کر رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3553
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير عمارة بن غزية فمن رجال مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3545»