کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مسافر کے روزے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھنا ناپسند کیا
حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : رَجُلٌ صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ اکٹھے تھے اور اس پر سایہ کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا: اس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو۔