کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مسافر کے روزے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے والا نافرمان ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3551
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَأَنَّهُ صَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ ، وَصَامَ النَّاسُ ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ : إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ ، قَالَ : " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُصَاةَ بِتَرْكِهِمُ الأَمْرَ الَّذِي أَمَرَهُمْ بِالإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ لِيَقُوَوَا بِهِ ، لا أَنَّهُمْ عُصَاةٌ بِصَوْمِهِمْ فِي السَّفَرِ ، إِذِ الصَّوْمُ وَالإِفْطَارُ فِي السَّفَرِ جَمِيعًا طَلْقٌ مُبَاحٌ .
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد (امام محمد باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ کراع الغمیم پہنچنے تک آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اسے بلند کیا لوگ آپ کی طرف دیکھنے لگے، تو آپ نے اسے پی لیا اس کے بعد آپ کی خدمت میں عرض کی گئی بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نافرمان لوگ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافرمان کا نام اس لیے دیا تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سفر کے دوران انہیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تو انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ سفر کے دوران روزہ رکھنے کی وجہ سے نافرمان ہو گئے کیونکہ سفر کے دوران روزہ رکھنا یا نہ رکھنا دونوں مطلق طور پر مباح ہیں۔