کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: روزہ دار کی قبلہ کے حوالے سے بات - اس خبر کا ذکر جو محمد بن الاشعث کی ہمارے بیان کردہ خبر سے ظاہری طور پر متضاد ہے
حدیث نمبر: 3547
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " ، ثُمَّ تَضْحَكُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكُ النَّاسِ لإِرْبِهِ ، وَكَانَ يُقَبِّلُ نِسَاءَهُ إِذَا كَانَ صَائِمًا ، أَرَادَ بِهِ التَّعْلِيمَ أَنَّ مِثْلَ هَذَا الْفِعْلِ مِمَّنْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ وَهُوَ صَائِمٌ جَائِزٌ ، وَكَانَ يَتَنَكَّبُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِعْمَالَ مِثْلِهِ إِذَا كَانَتْ هِيَ صَائِمَةٌ ، عِلَمَا مِنْهُ بِمَا رُكِّبَ فِي النِّسَاءِ مِنَ الضَّعْفِ عِنْدَ الأَسْبَابِ الَّتِي تَرِدُ عَلَيْهِنَّ ، فَكَانَ يُبْقِي عَلَيْهِنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَرْكِ استعمال ذَلِكَ الْفِعْلِ إِذَا كُنَّ بِتِلْكَ الْحَالَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، پھر وہ مسکرا دیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر سب سے زیادہ ق ابوحاصل تھا۔ اس کے باوجود آپ روزے کی حالت میں اپنی ازواج کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ اس کے ذریعے اس بات کی تعلیم دینا مراد ہے کہ جو شخص اپنی خواہش پر ق ابورکھتا ہو۔ اس کے لیے روزے کی حالت میں ایسا فعل کرنا جائز ہے ” البتہ جب آپ کی ازواج نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نوعیت کے کسی فعل کو کرنے سے اجتناب کیا کرتے تھے۔ کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ خواتین کے لیے اس نوعیت کی صورت حال میں خود پر ق ابوپانا مشکل ہوتا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کو ترک کر کے ان کی حالت کو باقی رہنے دیتے تھے «» جب وہ اس حالت میں ہوتی تھیں اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔