کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کفارہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان میں اپنی اہلیہ سے جماع کرنے والے پر اگر دو ماہ کے مسلسل روزوں کی قضائی لازم ہو اور وہ اس میں کوتاہی کرے یہاں تک کہ اس کی موت آ جائے تو اس کی موت کے بعد اس کی طرف سے روزوں کی قضائی کی جائے
حدیث نمبر: 3530
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ ، وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری بہن کے ذمے کچھ قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اسے ادا کیا جائے)