کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کھانا کھلانے کا حکم دیا جب وہ غلام آزاد کرنے اور دو ماہ کے مسلسل روزوں سے عاجز ہو گیا
حدیث نمبر: 3529
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتُ ، قَالَ : " وَمَا لَكَ ؟ " قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا ؟ خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لا بَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (میں روزے نہیں رکھ سکتا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابھی ہم وہاں بیٹھے ہی ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ (پھر آپ نے اس سے فرمایا) تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں۔ اللہ کی قسم! پورے شہر میں ہم سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اسے تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔