کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں اپنی اہلیہ سے جماع کرنے والے کو استغفار کے ساتھ کفارہ دینے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 3527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتُ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ ! " ، قَالَ : وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : مَا أَجِدُهَا ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ ، فَقَالَ : " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى غَيْرِ أَهْلِي ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَفْقَرُ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " خُذْهُ وَاسْتَغْفَرْ رَبِّكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غلام آزاد کرو اس نے جواب دیا: میرے پاس نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ اس نے جواب دیا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے جواب دیا: میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی اور کو دوں؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ پورے مدینہ منورہ میں مجھ سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم انہیں لو اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔