کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ سائل کے قول جو ہم نے بیان کیا کہ "میں نے اپنی بیوی پر واقعہ کیا" سے مراد رمضان میں ہے
حدیث نمبر: 3525
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ ، قَالَ : فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ هُوَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کو بتایا کہ اس نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس غلام ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: اس کی بھی میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں عطا کیں اور اسے حکم کیا کہ وہ انہیں صدقہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے حاجت مند ہونے کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ خود انہیں حاصل کرے۔