کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: روزوں کی قضا کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضائی لازم ہے، لیکن جو اس کے ارادے کے بغیر قے کرے اس پر قضائی لازم نہیں
حدیث نمبر: 3518
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي أَبُو وَهْبٍ الُوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلِيَقْضِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جس شخص کو خود بخود قے آ جائے اور اس نے روزہ رکھا ہوا ہو، تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی، لیکن جو شخص جان بوجھ کر قے کر دے وہ قضا کرے گا ۔“