کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: روزوں کی قضا کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت اپنے فرض روزوں کی قضائی شعبان آنے تک مؤخر کرے
حدیث نمبر: 3516
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تَقْدِرْ أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا كَانَ يَصُومُهُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی ایک نے روزے چھوڑے ہوتے تھے، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ان کی قضا نہیں کر پاتی تھیں یہاں تک شعبان کا مہینہ آ جاتا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے تھے جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے تھے۔ آپ اس کے صرف چند دنوں میں روزے نہیں رکھتے تھے باقی پورا مہینہ روزے رکھتے تھے۔