کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ صائم کے لیے کیا چیز پر افطار کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3514
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلَمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ تَمْرًا ، فَلِيُفْطِرْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ لا يَجِدُ ، فَلِيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ " .
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جس شخص کو کھجور ملے وہ اس کے ذریعے افطاری کرے اور جسے وہ نہ ملے وہ پانی کے ذریعے افطاری کرے، کیونکہ یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3514
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (404). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح لكنه منقطع
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3505»