کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس وقت کا ذکر جب صائموں کے لیے افطار جائز ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3512
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفِي ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : الشَّمْسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : الشَّمْسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ ، فَشَرِبَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " ، اجْدَحْ : خَوِّضِ السَّوِيقَ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ایک صاحب سے فرمایا: اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی سورج (غروب نہیں ہوا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو۔ وہ صاحب نیچے اترے اور انہوں نے ستو گھول دیئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے آئی ہے اور دن کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے چلا گیا ہے، تو روزہ دار شخص افطاری کر لے ۔“ اس روایت کے متن میں شامل ہونے والے لفظ اجدح سے مراد ستوؤں کو بھگونا ہے۔ یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3512
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3503»