کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اگر روزہ دار ہو تو اپنے افطار کے لیے تکلیف اٹھائے
حدیث نمبر: 3511
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفِي ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَهُوَ صَائِمٌ إِذْ قَالَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْسَيْتَ ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي " ، قَالَ : فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " ، يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے۔ آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے اپنے اصحاب میں سے کسی سے فرمایا: تم سواری سے نیچے اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی آپ شام ہو لینے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو۔ راوی کہتے ہیں: وہ صاحب اترے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو کھول دیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پی لیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے آ جائے، تو روزہ دار شخص افطاری کر لے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مشرق کی طرف سے آئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3511
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2037): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3502»