کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ طاعتوں کے اوقات کی پابندی حیلوں اور اسباب سے باطل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3510
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفُوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى سُنَّتِي مَا لَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ " ، قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ رَجُلا فَأَوْفِي عَلَى شَيْءٍ ، فَإِذَا قَالَ : " غَابَتِ الشَّمْسُ " ، أَفْطَرَ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میری امت اس وقت تک میری سنت پر گامزن رہے گی جب تک وہ افطاری کے لیے ستاروں (کے نکلنے) کا انتظار نہیں کریں گے ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا، تو آپ کسی شخص کو یہ ہدایت کرتے تھے وہ کسی بلند چیز پر چڑھ کر دیکھا تھا جب وہ یہ بتا دیتا کہ سورج غروب ہو گیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3510
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (3/ 275 / 2061) «الصحيحة» (2018). * [فَأَوْفَى عَلَى شَيْءٍ] قال الشيخ: وكذا في «صحيح ابن خزيمة»، وفي «المستدرك» (1/ 434): «نشز»، ولعلَّه الصواب. ويشهد لهذه الزيادة حديث ابن أبي أوفى الآتي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3501»