کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر صائموں کے لیے افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3503
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ ، إِنَّ الِيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: دین اس وقت تک غالب رہے گا، جب تک لوگ افطاری جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہودی اور عیسائی اسے تاخیر سے کرتے ہیں ۔“