کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اگر جنب ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 3495
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هاجكٍ الْعَابِدُ ، بِهَرَاةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ ، وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُدْرِكُنِي الصَّلاةُ وَأَنَا جُنُبٌ ، أَفَأَصُومُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ " ، فَقَالَ : لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے سے یہ بات سن رہی تھیں اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بعض اوقات مجھے (فجر کی) نماز کا وقت ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں، تو کیا میں اس دن روزہ رکھ لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات نماز مجھے بھی ایسی حالت میں پاتی ہے کہ میں جنبی ہوتا ہوں، تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہماری مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس چیز کے بارے میں جانتا ہوں جو پرہیزگاری ہے۔