کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3491
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأشج ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَبِيتُ جُنُبًا ، فَيَأْتِيهِ بِلالٌ ، فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ ، فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ، فَرَأَيْتُ تَحَدُّرَ الْمَاءِ مِنْ شَعْرِهِ ، ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ صَائِمًا " ، قَالَ مُطَرِّفٌ : قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ : فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : شَهْرُ رَمَضَانَ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض و اوقات جنابت کی حالت میں رات بسر کرتے تھے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو فجر کی نماز کے لیے بلانے آتے، تو آپ اٹھ کر غسل کرتے تھے میں آپ کے بالوں سے پانی کے پھسلنے کا منظر دیکھ رہی ہوتی تھی، لیکن آپ اس دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ مطرف نامی راوی کہتے ہیں: میں نے امام شعبی سے دریافت کیا: کیا رمضان کے مہینے میں ایسا ہوتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اس بارے میں رمضان کا مہینہ اور دوسرے مہینے برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔