کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سحری کا بیان - اس فعل کی ممانعت کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ شرط کے ساتھ جائز تھا اگر اس کے ساتھ دوسری شرط ہو
حدیث نمبر: 3473
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنَ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلالٌ " ، وَكَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ حِينَ يَرَى الْفَجْرَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ابن ام مکتوم رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک بلال اذان نہیں دیتا ۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیا کرتے تھے جب وہ صبح صادق دیکھ لیتے تھے۔