کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سحری کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر بلال رات کو اذان دیتے تھے
حدیث نمبر: 3472
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ ، وَلَكِنَّ الْفَجْرَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِكَفِّهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ " ، فِيهِ أَبِيَنُ الْبَيَانِ عَلَى أَنَّ بِلالاً كَانَ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لانْتِبَاهِ النُّوَّامِ ، وَرُجُوعِ الْهُجَّدِ ، عَنِ الْقِيَامِ ، لا لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَإِذَا كَانَ الْمَسْجِدُ لَهُ مُؤَذِّنَانِ ، وَأَذَّنَ أَحَدُهُمَا بِلَيْلٍ لَمَا وَصَفْنَا ، وَالآخَرُ عِنْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا ، فَأَمَّا مَنْ أَذَّنَ بِلَيْلٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، كَانَ عَلَيْهِ الإِعَادَةُ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَصِحَّ أَنَّهُ أَذَّنَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيْلٍ إِلا مُؤَذِّنَانِ ، لا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تاکہ سوئے ہوئے شخص کو متنبہ کرے اور نوافل ادا کرنے والا شخص واپس جائے (اور سحری کرے) صبح صادق یوں نہیں ہوتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا بلکہ صبح صادق یوں ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرنا۔ ” بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اس لیے اذان دے دیتا ہے تاکہ وہ سوئے ہوئے شخص کو متنبہ کر دے اور نوافل ادا کرنے والا شخص (سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے۔ “ اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان اس لیے دیتے تھے تاکہ سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دیں اور تہجد ادا کرنے والا شخص (نوافل ختم کر کے سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے۔ وہ فجر کی نماز کے لیے یہ اذان نہیں دیتے تھے۔ تو جب مسجد میں دو مؤذن تھے اور ان میں سے ایک شخص صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی اذان دے دیتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو دوسرا شخص صبح صادق ہونے پر فجر کی نماز کے لیے اذان دیتا تھا تو یہ بات جائز ہو گی البتہ جو شخص صبح کی نماز کے لیے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتا ہے، تو اس پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ صبح کی نماز کے لیے دوبارہ اذان دے کیونکہ یہ بات مستند طور پر ثابت نہیں ہے کہ صبح صادق ہونے سے پہلے کبھی دونوں مؤذنوں نے اذان دی ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3472
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (3459). تنبيه!! رقم (3459) = (3468) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3463»