کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سحری کا بیان - اس بات کا بیان کہ عرب اپنی بستیوں میں زبانوں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 3463
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : لَمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 ، أَخَذْتُ عِقَالا أَبِيَضَ وَعِقَالا أَسُوَدَ ، فَوَضَعْتُهَا تَحْتَ وِسَادَتِي ، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : " إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ " .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” یہاں تک کہ سیاہ دھاگے کے مقابلے میں سفید دھاگہ تمہارے سامنے نمایاں ہو جائے ۔“ تو میں نے ایک سفید دھاگہ لیا اور ایک سیاہ دھاگہ لیا میں نے انہیں اپنے سرہانے کے نیچے رکھ دیا۔ میں اس بات کا جائزہ لیتا رہا، لیکن وہ میرے سامنے نمایاں نہیں ہوا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ ہنس پڑھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے اس سے مراد رات ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3463
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3454»