کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند دیکھنے کا بیان - رمضان کے ہلال کی رؤیت پر ایک عادل گواہ کی شہادت کی اجازت کا ذکر
حدیث نمبر: 3446
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَينُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَبْصَرْتُ الْهِلالَ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " قُمْ يَا فُلانُ ، فَنَادِ فِي النَّاسِ ، فَلِيَصُومُوا غَدًا " ، وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو يَعْلَى مَرَّةً أُخْرَى ، وَقَالَ : " قُمْ يَا بِلالُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: گزشتہ رات میں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں تم اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کرو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ جس میں یہ الفاظ ہیں ” اے بلال تم اٹھو۔ “