کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ صائم کے منہ کا خلوف دنیا میں بھی مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 3424
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكُوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، يَقُولُ اللَّهُ : إِلا الصَّوْمَ ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي ، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي ، وَشَهُوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا وہ میری وجہ سے کھانا چھوڑتا ہے میری وجہ سے اپنا پینا چھوڑتا ہے میری وجہ سے اپنی خواہش کو چھوڑتا ہے، تو میں اس کی جزا دوں گا۔ روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی ایک خوشی اس وقت جب وہ افطاری کرے گا اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ روزہ دار شخص کے منہ کی بو، جو کھانا چھوڑنے کی وجہ سے آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3424
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الترغيب» (969). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3415»