کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ معروف دینے والے کی حمد معروف کا بدلہ ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3415
أَخْبَرَنَا الْحَسَينُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ لَهُ خَيْرًا إِلا الثَّنَاءَ ، فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ كَتَمَهُ ، فَقَدْ كَفَرَهُ ، وَمَنْ تَحَلَّى بِبَاطِلٍ ، فَهُوَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جس کے ساتھ بھلائی کی جائے اسے بھلائی کرنے کے لیے صرف تعریف ملے، تو وہ شکر گزار ہو اور جو شخص اس کو چھپاتا ہے وہ کفران نعمت کرتا ہے اور جو شخص باطل چیز سے خود کو آراستہ ظاہر کرتا ہے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے کی مانند ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3415
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الترمذي» (2120). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3406»