کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کا شکر کرے جس نے اسے نعمت دی
حدیث نمبر: 3414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فُلانًا يَشْكُرُ ، ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنَّ فُلانًا قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِئَةِ ، فَمَا يَشْكُرُهُ وَلا يَقُولُهُ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ مِنْ عِنْدِي لِحَاجَتِهِ مُتَأَبِّطَهَا ، وَمَا هِيَ إِلا النَّارُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ تُعْطِهِمْ ؟ قَالَ : " يَأْبَوْنَ إِلا أَنْ يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِيَ الْبُخْلَ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے کہ وہ شکر گزار ہو رہا تھا اس نے یہ بات ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو دینار عطا کیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فلاں شخص کو، تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان ادائیگی کی تھی اس نے، تو اس کا شکریہ ادا نہیں کیا نہ ہی اس کا ذکر کیا کوئی شخص میرے پاس سے اپنی ضرورت کے لیے کوئی چیز لے کر نکلتا ہے، جو اس نے بغل میں لی ہوتی ہے وہ چیز صرف جہنم ہوتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو دے کیوں دیتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھ سے مانگتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو میرا بخل منظور نہیں ہے۔