کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اس کے ساتھ معروف کرے اسے بدلہ دیا جائے
حدیث نمبر: 3408
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ ، فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ ، فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَرَوَا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَصَّرَ جَرِيرٌ فِي إِسْنَادِهِ ، لأَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ فِيهِ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے کچھ مانگے تم اسے کچھ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کر لو اور جو بھلائی کرے، تو تم اس کا بدلہ دو اور اگر تمہیں اسے بدلہ دینے کے لیے کچھ نہیں ملتا، تو تم اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تمہیں اندازہ ہو جائے کہ اب تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): جریر نے اس کی سند مختصر کر دی ہے کیونکہ انہوں نے اس کی سند میں ابراہیم تیمی کا نام یاد نہیں رکھا۔
حدیث نمبر: 3409
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اللہ کے نام پر مانگے، تو اسے دے دو جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کرو۔ “