کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر کوئی حرج نہیں اگر وہ بغیر مانگے اور نفس کے میلان کے بغیر دی گئی چیز لے
حدیث نمبر: 3403
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَعْطَى ابْنَ السَّعْدِيِّ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ، وَقَالَ : أَنَا عَنْهَا غَنِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنِّي قَائِلٌ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَاقَ اللَّهُ إِلَيْكَ رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ ، فَخُذْهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَاكَهُ " .
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن سعدی کو دو ہزار دینار دیئے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور بولے: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتانے لگا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی۔ ” جب اللہ تعالیٰ مانگے بغیر، تمہارے لالچ کے بغیر، تمہیں کوئی رزق عطا کرے، تو تم اسے حاصل کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں عطا کیا ہے۔ “
حدیث نمبر: 3404
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الأَسُوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ ، نَفْسٍ ، فَلِيَقْبَلْهُ ، وَلا يَرُدَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الأَمْرُ الَّذِي أُمِرْنَا بِاسْتِعْمَالِهِ هُوَ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ ، وَالشَّيْئَانِ الْمَعْلُومَانِ الَّذِي أُبِيحَ لَهُ ذَلِكَ عِنْدَ عَدَمِهِمَا هُوَ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ ، فَإِنْ وُجِدَ أَحَدُهُمَا فِي الْغَنِيِّ الْمُسْتَقِلِّ بِمَا عِنْدَهُ زُجِرَ عَنْ أَخْذِ مَا أُعْطِيَ دُونَ الْفُقَرَاءِ الْمُضْطَرِّينَ ، وَالتَّارَةُ الَّتِي يُبَاحُ فِيهَا أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ ، وَإِنْ وُجِدَ فِيهِ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ هِيَ حَالَةُ الاضْطِرَارِ ، وَالاضْطِرَارُ عَلَى ضَرْبَيْنِ : اضْطِرَارٌ بِجِدَةٍ ، وَاضْطِرَارٌ بِعُدْمٍ ، وَالاضْطِرَارُ الَّذِي يَكُونُ بِجِدَةٍ هُوَ أَنْ يَمْلِكَ الْمَرْءُ الشَّيْءَ الْكَثِيرَ مِنْ حُطَامِ هَذِهِ الدُّنِيَا سِوَى الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ ، وَهُوَ فِي مَوْضِعٍ لا يُبَاعُ فِيهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ أَصْلا ، فَهُوَ وَإِنْ كَانَ وَاجِدًا ، حُكْمُهُ حُكْمُ الْمُضْطَرِّ ، لَهُ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ ، وَإِنْ كَانَ سَائِلا أَوْ مُشْرِفَ النَّفْسِ إِلَيْهِ ، وَاضْطِرَارُ الْعُدْمِ هُوَ وَاضِحٌ لا يَحْتَاجُ إِلَى الْكَشْفِ عَنْهُ .
سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جس شخص کو مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی ملے، تو وہ اسے قبول کر لے وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ یہ وہ رزق ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ حکم جس پر عمل کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، وہ اس چیز کو لے لینا ہے، جو آدمی کو دی گئی ہو، اور دو متعین چیزیں ایسی ہیں جن کی عدم موجودگی میں (کسی سے کوئی چیز لینا) آدمی کے لیے مباح ہوتا ہے۔ وہ (دو متعین چیزیں) مانگنا اور لالچ ہیں، تو ایسا خوشحال شخص جو مستقل طور پر (خوشحال ہو) اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز اس میں پائی جائے تو اس کے لیے دیئے جانے والے مال کو لینا ممنوع ہو جائے گا۔ یہ حکم اضطرار کا شکار فقیر کے لیے نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے ملنے والی چیز کو لینا مباح ہوتا ہے، اگرچہ اس میں مانگنے اور لالچ کی صورت پائی جا رہی ہو، اور یہ حالت اضطرار میں ہوتا ہے۔ اضطرار کی دو صورتیں ہیں۔ ایسا اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہو، اور ایسا اضطرار (جو مال کی) عدم موجودگی میں ہو۔ وہ اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہوتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اس دنیا کے بہت سے ساز و سامان کا مالک ہو، (لیکن وہ سامان) کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ ہو اور آدمی ایسی جگہ موجود ہو جہاں کھانے پینے کی اشیاء سرے سے فروخت ہی نہ ہوتی ہوں۔ تو آپ اگرچہ اس کے پاس (مال) موجود ہے لیکن اس کا حکم اضطرار کے شکار شخص کا ہو گا۔ اسے جو کچھ دیا جائے وہ لینا اس کے لیے جائز ہو گا۔ اگرچہ وہ شخص مانگنے والا ہو یا اس میں لالچ موجود ہو اور (مال کی) عدم موجودگی کی صورت میں لاحق ہونے والا اضطرار واضح ہے۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔