کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس فانی دنیا سے دی گئی چیز لے جب کہ اس کی نفس اس کی طرف مائل ہو
حدیث نمبر: 3402
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَكِيمُ ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا أَخِيَرُ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى " ، قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنِيَا .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کر دیا میں نے پھر مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا ایسا تین مرتبہ ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حکیم یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، جو شخص نفس کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص نفس کے لالچ کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اب میں مرتے دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔