کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کر کے اس کی مخلوق سے مستغنی ہو جاتا ہے، اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 3400
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُمْ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ، قَالَ : " مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ ، فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطا کر دیا انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں عطا کر دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جو کچھ بھی بھلائی موجود ہے میں تم لوگوں سے بچا کر اسے نہیں رکھوں گا، لیکن جو شخص مانگنے سے بچنے کی کوشش کرے گااللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا کے رکھے گا اور جو شخص (لوگوں سے) بے نیازی اختیار کرنے کی کوشش کرے گااللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص صبر کرنا چاہے گااللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی کوئی چیز نہیں دی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور صبر سے زیادہ کشادہ ہو۔