کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ قبصہ بن مخارق کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ فِي أَمْرٍ لا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مانگنا خراش ڈالنا ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے چہرے پر خراش ڈالتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے اسے ترک کر دے، البتہ حکمران (یا متعلقہ سرکاری اہل کار سے حکومتی آمدن میں سے) مانگا جا سکتا ہے یا کسی ایسی صورت میں مانگا جا سکتا ہے، جو انتہائی مجبوری ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3397
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (3377). تنبيه!! رقم (3377) = (3386) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3388»