کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی کثرت کے ارادے سے مانگے نہ کہ استغنا اور قوت کے لیے
حدیث نمبر: 3391
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ فَإِنَّمَا هُوَ رَضْفٌ مِنَ النَّارِ يَتَلَهَّبُهُ ، مَنْ شَاءَ فَلِيُقِلَّ ، وَمَنْ شَاءَ فَلِيُكْثِرْ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص لوگوں سے اس لیے مانگتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرے، تو وہ جہنم کے انگارے جمع کر رہا ہے اب جو چاہے وہ تھوڑے اکٹھے کرے جو چاہے وہ زیادہ اکٹھے کر لے۔ “