کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سائل ملحف بن جاتا ہے
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : الِيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، قَالَ : وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص (دوسرے سے کچھ) مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) موجود ہو، تو وہ شخص لپٹ کر سوال کرنے والا ہے۔ “ راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔