کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ زیادہ مانگنے سے بچے
حدیث نمبر: 3388
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاثًا ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاثًا ، يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمَرَكُمْ ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ ، وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں سے راضی ہے اور تمہارے لیے تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے تمہارے لیے اس بات سے راضی ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تم سب لوگ اس (حکمران) کی خیر خواہی کرو جسےاللہ تعالیٰ نے تمہارے امور کا نگران بنایا ہے اور وہ تمہارے لیے ان باتوں کو ناپسند کرتا ہے کہ قیل و قال کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت مانگنا۔ “