کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ مانگنے سے منع کرنے کا حکم جو ہم نے پہلے عام الفاظ میں ذکر کیا، وہ استحباب کا ہے نہ کہ وجوب کا
حدیث نمبر: 3386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي ؟ فَقَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ يَنْزِلَ بِهِ أَمْرٌ لا يَجِدُ مِنْهُ بَدًّا " .
زید بن عقبہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ حجاج نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگتے نہیں ہیں، تو انہوں نے بتایا: سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” یہ مانگنا ایک خراش ڈالنا ہے، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے جو شخص چاہے وہ ایسا نہ کرے مگر یہ کہ جو شخص حاکم وقت (یا متعلقہ سرکاری اہل کار) سے مانگے یا وہ شخص جسے کوئی ایسی صورت حال پیش ہو کہ مانگنا اس کی مجبوری ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3386
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1447). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3377»