کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اس بیان کا باب جس میں منعم کے لیے دنیا میں منعم علیہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرنا جائز بتایا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ اسناد منقطع ہے
حدیث نمبر: 3384
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ ، وَلا مَنَّانٌ ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اخْتَلَفَ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ ، فَقَالَ الثَّوْرِيُّ : عَنْ سَالِمِ ، عَنْ جَابَانَ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ إِلا أَنَّ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ بَلَدِهِ مِنْ شُعْبَةَ ، وَأَحْفَظُ لَهَا مِنْهُ ، وَلا سِيَّمَا حَدِيثَ الأَعْمَشِ ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، وَمَنْصُورٍ ، فَالْخَبَرُ مُتَّصِلٌ ، عَنْ سَالِمِ ، عَنْ جَابَانَ ، فَمَرَّةٌ رُوِيَ كَمَا قَالَ شُعْبَةُ ، وَأُخْرَى كَمَا قَالَ سُفِيَانُ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” (والدین کا) نافرمان شخص، احسان جتلانے والا شخص اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): شعبہ اور ثوری نے اس روایت کی سند میں اختلاف کیا ہے ثوری یہ کہتے ہیں یہ سالم کے حوالے سے جابان کے حوالے سے منقول ہے اور یہ دونوں ثقہ اور حافظ ہیں۔ البتہ ثوری اپنے شہر کے افراد کی احادیث کے بارے میں شعبہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان روایات کے بارے میں شعبہ سے زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ بطور خاص وہ روایات جو اعمش ابواسحاق اور منصور سے منقول ہیں۔ اس لیے سالم کے حوالے سے جابان سے منقول یہ روایت متصل ہو گی تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس طرح روایت کر دیا جس طرح شعبہ نے بیان کیا ہے اور ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دیا جس طرح سفیان نے بیان کیا ہے۔