کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ان اوصاف کا بیان جن کے ذریعے تنگدست شخص صدقہ دینے والے کے برابر اجر پا سکتا ہے - اس بات کا ذکر کہ وہ خصوصیات جو مال نہ رکھنے والے کے لیے صدقہ دینے والے کی جگہ لیتی ہیں
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنْ نَفْسِ ابْنِ آدَمَ إِلا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ أَبُوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ : التَّسْبِيحُ ، وَالتَّحْمِيدُ ، وَالتَّكْبِيرُ ، وَالتَّهْلِيلُ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهِيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَتُسْمِعُ الأَصَمَّ ، وَتَهْدِي الأَعْمَى ، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” انسان کی ہر ایک سانس کے عوض میں اس پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے، جس میں سورج نکلتا ہے۔ عرض کی گئی: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لیے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھلائی کے دروازے زیادہ ہیں «سبحان اللہ» کہنا، «الحمداللہ» کہنا، «اللہ اکبر» کہنا، «لا اله الا اللہ» پڑھنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا، اپنے بازوؤں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لیے وزن اٹھا دینا یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لیے صدقہ ہیں۔ “