کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ متصدق اپنا صدقہ سائل کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ سے رکھے
حدیث نمبر: 3373
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلا ظِلْفًا مُحْرَقًا ، فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ " .
سیدہ ام بجید رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بعض اوقات کوئی غریب میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے مجھے اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ملتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جسے تم اسے دے سکو صرف جلا ہوا پایہ ملتا ہے، تو تم وہ ہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3373
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1467). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3362»