کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنا سارا مال صدقہ کر دے پھر دوسروں پر بوجھ بنے
حدیث نمبر: 3372
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ ، قَدْ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَغَازِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُذْ هَذِهِ مِنِّي صَدَقَةً ، فَوَاللَّهِ مَا أَصْبَحَ لِي مَالٌ غَيْرُهَا ، قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الآخَرَ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَأَخَذَهَا مِنْهُ ، فَحَذَفَهُ بِهَا حَذَفَةً لَوْ أَصَابَهُ عَقَرَهُ ، أَوْ أَوْجَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَأْتِي أَحَدُكُمْ إِلَى جَمِيعِ مَا يَمْلِكُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ ! إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، خُذْ عَنَّا مَالَكَ ، لا حَاجَةَ لَنَا بِهِ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص سونے کا انڈہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو کسی جنگ کے دوران اسے ملا تھا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر قبول کر لیجئے۔ اللہ کی قسم! میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا وہ دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسی کی مانند بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر منہ پھیر لیا پھر وہ سامنے کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے لیا اور پھر وہ اسے یوں مارا کہ اگر وہ اسے لگ جاتا تو اسے زخمی کر دیتا یا اسے تکلیف پہنچاتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے تمام مال کی طرف آتا ہے، تاکہ اسے صدقہ کر دے اور پھر خود بیٹھ جاتا ہے، تاکہ لوگوں سے مانگتا پھرے۔ صدقہ وہ ہوتا ہے، جو خوشحالی کے عالم میں کیا جائے تم اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔